عراق میں ہورہے مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ۔۔۔ سیستانی نے کیا حکومت کو انتباہ
بغداد: حمزہ مصطفی کرفیو کے باوجود درجنوں مظاہرین جنوبی گورنریٹ اور دارالحکومت میں مظاہرے کی تحریک کے چوتھے دن کل وسط بغداد میں جمع ہوۓ ، جس میں ہلاکتوں کی تعداد کل 46 تک پہونچ گئی ۔ فرانسیسی پریس ایجنسی کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے نوجوانوں کی نوکری اور کرپٹ اہلکاروں کی روانگی پر مشتمل […]

بغداد: حمزہ مصطفی
کرفیو کے باوجود درجنوں مظاہرین جنوبی گورنریٹ اور دارالحکومت میں مظاہرے کی تحریک کے چوتھے دن کل وسط بغداد میں جمع ہوۓ ، جس میں ہلاکتوں کی تعداد کل 46 تک پہونچ گئی ۔ فرانسیسی پریس ایجنسی کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے نوجوانوں کی نوکری اور کرپٹ اہلکاروں کی روانگی پر مشتمل متعدد مطالبات کو اٹھانے والے مظاہرین پر گولی چلائی۔ گذشتہ روز حکام نے بغداد میں "نامعلوم سنائپرز” پر چار افراد کی ہلاکت کا الزام عائد کیا ہے، سیکیورٹی میڈیا سیل نے اطلاع دی کہ – وسط بغداد میں سیکیورٹی فورسز کے دو ارکان اور دو شہریوں کی نامعلوم اسنائپر کے فائر سے شہادت »کی خبر ملی۔ عراقی پارلیمنٹ آج ایک اجلاس منعقد کرنے والی ھے جس میں مظاہرین کے نمائندوں کو اپنے مطالبات پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے دعوت دی گئی ہے ، اجلاس کے انعقاد کے لئے دعوت کا مسئلہ اس وقت سامنے آیا جب شیعہ عالم دین علی سیستانی نے اپنے نمائندے أحمد صافی کے ذریعے مظاہرین کے مطالبات کی حمایت کا اعلان کیا۔(…)(ہفتہ 6 صفر 1441 ہجرى/ 5 اکتوبر 2019ء شماره نمبر 14913)