سفارت کاری اور پابندیوں کے ذریعہ انقرہ پر امریکی دباؤ
واشنگٹن: ایلی یوسف – انقرہ: سعید عبد الرازق – ماسکو: رائد جبر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے سفارتی دباؤ اور پابندیوں کا استعمال کرتے ہوئے شام کے شمال مشرق پرترکی کی طرف سے ہوئے حالیہ حملے کے ردعمل کے لئے اقدامات تیز کردی ہیں۔ ٹرمپ نے عزم کیا ہے کہ اگر آج نائب […]

واشنگٹن: ایلی یوسف – انقرہ: سعید عبد الرازق – ماسکو: رائد جبر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے سفارتی دباؤ اور پابندیوں کا استعمال کرتے ہوئے شام کے شمال مشرق پرترکی کی طرف سے ہوئے حالیہ حملے کے ردعمل کے لئے اقدامات تیز کردی ہیں۔ ٹرمپ نے عزم کیا ہے کہ اگر آج نائب صدر مائک پینس اور ترک صدر رجب طیب اردوغان کی ملاقات ناکام ہوئی تو وہ پابندیوں کے ذریعہ ترک معیشت کو تباہ کردیں گے ۔ امید کی جارہی ہے کہ سینیٹ آج ترکی کے خلاف پابندیوں کے حق میں ووٹ ڈالے گا، جبکہ انتظامیہ نے سینئر عہدیداروں کو انقرہ بھیجا ہے تاکہ وہ اس حملے کو روکنے کے لئے ترکی کو راضی کرسکیں ۔ تاہم، اردغان نے آج پینس اور امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو کے ساتھ اپنی متوقع ملاقات کو پہلے ہی اس بات پر زور دیتے ہوئے صاف کردیا ہے کہ امریکی پابندیوں سے فوجی آپریشن کے آگے بڑھنے کے فیصلے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ (…)(جمعرات 18 صفر 1441 ہجرى/ 17 اکتوبر 2019ء شماره نمبر 14913)