ايشيا

منبج کے قریب شامی حکومت کی افواج پر "پراسرار چھاپے”

ماسکو: رائد جبر انقرہ: سعید عبد الرازق افراد اور گاڑیوں سمیت شامی حکومت کی افواج کا ایک حصہ پراسرار گولہ باری کی زد میں آگیا، یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب وہ حلب کے شمال مشرقی علاقے میں واقع منبیج کی طرف پیش قدمی کررہا تھا۔ کارکنوں نے اطلاع دی ہے کہ اس گولہ […]

منبج کے قریب شامی حکومت کی افواج پر "پراسرار چھاپے”

ماسکو: رائد جبر انقرہ: سعید عبد الرازق

افراد اور گاڑیوں سمیت شامی حکومت کی افواج کا ایک حصہ پراسرار گولہ باری کی زد میں آگیا، یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب وہ حلب کے شمال مشرقی علاقے میں واقع منبیج کی طرف پیش قدمی کررہا تھا۔ کارکنوں نے اطلاع دی ہے کہ اس گولہ باری سے منبیج کے دیہی علاقوں میں واقع قصبہ عسیلہ کے قریب سات گاڑیوں اور درجنوں عناصر کو نشانہ بنایا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق یہ حملہ F-16 جنگجو طیاروں یا بین الاقوامی اتحادی بمباروں کی جانب سے ہوا ہے، جبکہ امریکی انخلا کے بعد منیج میں داخل ہونے کے لئے حکومت کی افواج اور ترک حامی جماعتوں کے درمیان دوڑ جاری ہے۔ ماسکو نے کل پہلی بار یہ انکشاف کیا ہے کہ، دمشق اور انقرہ کے مابین "براہ راست بات چیت کے چینلز” موجود ہیں ، جو فریقین کے مابین تصادم کو روکنے کے لئے فوجی ، سفارتی اور سلامتی سطح پر "مستقل” کام کر رہےہیں۔(…)(بدھ  17  صفر 1441 ہجرى/ 16  اکتوبر 2019ء شماره نمبر 14913)