"پیرس کانفرنس” دو ریاستی حل کی توثیق
عرب امن میں پہل کاری کی اہمیت پر زور اور 67 کی سرحدیں اس کا بنیادی حل پیرس: میشال ابو نجم کل پیرس کانفرنس میں فلسطینی اسرائیلی تنازعے کے دو ریاستی حل پر زور دیا گیا کہ جس کے حل کی بنیاد سنہ 1967 کی سرحد کے مطابق ہوگی۔ جیسا کہ شرکا […]
عرب امن میں پہل کاری کی اہمیت پر زور اور 67 کی سرحدیں اس کا بنیادی حل

پیرس: میشال ابو نجم
کل پیرس کانفرنس میں فلسطینی اسرائیلی تنازعے کے دو ریاستی حل پر زور دیا گیا کہ جس کے حل کی بنیاد سنہ 1967 کی سرحد کے مطابق ہوگی۔ جیسا کہ شرکا نے اپنے اختتامی بیان میں اس بات کا اظہار کیا کہ وہ مذاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل تک پہنچنے کے لئے فریقین کی کوششوں کی حمایت کی خاطر رواں سال کے اختتام سے قبل دوبارہ اجلاس منعقد کرنے کو تیار ہیں۔ علاوہ ازیں اختتامی بیان میں جامع حل اور علاقائی امن و سلامتی کے حصول کے لئے عرب امن میں پہل کاری کی بھی یقین دہانی کی گئی۔
کل پیرس کی میزبانی میں مشرق وسطی میں امن کے لئے منعقدہ یہ کانفرنس سخت حفاظتی انتظامات میں دن بھر جاری رہی۔
اس میں دلچسپ امر یہ کہ دونوں فریق اسرائیل اور فلسطین اس (کانفرنس) سے غائب تھے۔ مگر اس کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم بینامین نتن یاہو نے اس کانفرنس پر زبانی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ "فرانسیسی غلاف میں فلسطینی فریب ہے”۔ جبکہ فلسطینی ذرائع کی رپورٹ کے فلسطینی صدر محمود عباس؛ جنہوں نے در حقیقت ہفتہ کی شام روم سے براہ راست پیرس پہنچنا تھا، فرانسیسی حکام نے ان سے درخواست کی کہ وہ اپنے دورہ کو دو ہفتے کے لئے مؤخر کر دیں۔