اردن ایرانی بیانات کو مسترد کر رہا ہے
ایرانی سفیر کو طلب کر کے انہیں احتجاجی نوٹس دیا گیا عمان: محمد الدعمہ کل اردن کے تارکین وطن کے امور کی وزارت خارجہ نے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں اردن کی قیادت کو کمزور کہنے پر عمان میں ایران کے سفیر مجتبی فردوسی بور کو طلب […]
ایرانی سفیر کو طلب کر کے انہیں احتجاجی نوٹس دیا گیا

عمان: محمد الدعمہ
کل اردن کے تارکین وطن کے امور کی وزارت خارجہ نے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں اردن کی قیادت کو کمزور کہنے پر عمان میں ایران کے سفیر مجتبی فردوسی بور کو طلب کیا اور شدید الفاظ میں احتجاج کرتے ہوئے انکے مذمتی بیان کو مسترد کر دیا۔ اردن کی وزارت نے اپنے بیان میں ایران کی طرف سے جاری بیان کو "اردن کے بنیادی کردار کو مسخ کرنے کی ناکام کوشش قرار دیا ہے، جو وہ علاقائی سلامتی و استحکام کے حصول، دہشت گردی، گمراہی اور بغاوت کی کوششوں کو ناکام بنانے اور عرب قوم کے مسائل و مشکلات کی تجارت سے انکار کرنے کی خاطر ادا کر رہا ہے”۔ وزارت نے زور دیا کہ ایران کو چاہیئے کہ وہ عرب ممالک کے ساتھ اچھے ہمسائیگی کے تعلقات قائم کرے اور ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسم نے کہا تھا کہ اردن کے فرمان روا شاہ عبد اللہ دوم نے دہشت گردی کی تعریف میں ایک سٹریٹجک اور بنیادی غلطی کی ہے۔ ایرانی ترجمان نے یہ بیان شاہ عبد اللہ کی جانب سے امریکی میگزین "واشنگٹن پوسٹ” کو دیئے گئے انٹرویو کے جواب میں دیا ہے، جس میں شاہ نے ایران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے تہران کو تنظیم داعش کا بازو قرار دیا تھا۔