روسی وفد وصولی کے لئے شام میں
ترکی کا "جنیوا” اور سوچی کانفرنس کے بارے میں شامی اپوزیشن کے ساتھ تبادلہ خیال ماسکو: طہ عبد الواحد – انقرہ: سعید عبد الرازق روسی نائب وزیر اعظم دیمتری روگوزین نے بیان دیا ہے کہ ان کا ملک کسی اور کی مدد کے بغیر شام میں توانائی کی سہولیات کو دوبارہ تعمیر کرے […]
ترکی کا "جنیوا” اور سوچی کانفرنس کے بارے میں شامی اپوزیشن کے ساتھ تبادلہ خیال

ماسکو: طہ عبد الواحد – انقرہ: سعید عبد الرازق
روسی نائب وزیر اعظم دیمتری روگوزین نے بیان دیا ہے کہ ان کا ملک کسی اور کی مدد کے بغیر شام میں توانائی کی سہولیات کو دوبارہ تعمیر کرے گا۔ (۔۔۔)
نیوز ایجنسی "ٹاس” کے مطابق روگوزین کی بھرپور خواہش ہے کہ ان کا ملک شام کی معیشت میں بطور "کار خیر کرنے والا” یا بطور "ڈونر ریاست” کے ہرگز داخل نہ ہو۔ (۔۔۔) انہوں نے مزید کہا کہ: "ہمیں سوچنا ہوگا کہ کس طرح بجٹ کی رقم حاصل ہوگی، ہمارے شہریوں کے لئے اور ان لوگوں کے لئے جنہوں نے روسی فیڈریشن کی طرف سے شامی سرزمین پر عظیم کارنامے سرانجام دیئے وہ بھی معاوضے کے منتظر ہیں”۔
دوسری جانب، ترک وزیر خارجہ مولود اوغلو نے شامی اپوزیشن کے ماتحت مذاکراتی کمیشن کے سربراہ نصر الحریری کے ہمراہ شام کے سیاسی حل کی خاطر ترک کوششوں کا جائزہ لیا۔ اوغلو نے "ٹویٹر” پر اپنے اکاؤنٹ میں کہا ہے کہ: ” ترکی کی طرف سے کی جانے والی کوششوں اور خاص طور پر سیاسی اعتبار سے پیش قدمی کے حصول کی خاطر جنیوا عمل اور فروری میں سوچی کانفرنس کے درمیان ہم آہنگی کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔