ریاض کانفرنس میں جنیوا عمل کی تائید
شامی مخالف جماعتوں کی طرف سے "غیر مشروط براہ راست مذاکرات” جاری رکھنے کے لئے ایک متحدہ وفد کی تشکیل – روس کا اپنی افواج میں کمی کا اشارہ رياض: فتح الرحمن يوسف – ماسكو: طہ عبد الواحد کل ریاض میں جمع ہونے والی شامی مخالف قوتوں نے شامی حکومت کے ساتھ مذاکرات […]
شامی مخالف جماعتوں کی طرف سے "غیر مشروط براہ راست مذاکرات” جاری رکھنے کے لئے ایک متحدہ وفد کی تشکیل – روس کا اپنی افواج میں کمی کا اشارہ

رياض: فتح الرحمن يوسف – ماسكو: طہ عبد الواحد
کل ریاض میں جمع ہونے والی شامی مخالف قوتوں نے شامی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لئے مختلف دھڑوں کے 50 نمائندہ افراد میں سے "ایک متحدہ وفد” تشکیل دینے پر اتفاق کیا ہے، جنہیں آج کے اجلاس میں منتخب کیا جائے گا۔ اجلاس نے بحران کے حل کے لئے اقوام متحدہ کی زیر نگرانی جنیوا طریقہ کی تائید کی اور "غیر مشروط براہ راست مذاکرات” کا مطالبہ کیا۔ (۔۔۔)
خالدی نے یقین دہانی کی کہ "شرکا اجلاس بشار الاسد اور ان کی حکومت کے اقتدار کے خاتمے اور ماسکو پلیٹ فارم محفوظ رکھنے پر اتفاق کیا ہے”۔ (۔۔۔)
روسی جنرل اسٹاف کے سربراہ جنرل ویلریری گراسیموف نے کہا ہے کہ شام میں رواں سال کے اختتام تک شام روسی افواج میں نمایاں کمی لائیں گے۔