صدارتی امیدوار ایرانی تضحیک کا باعث
لندن: عادل السالمی ایران میں 19 مئی کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لئے سینکڑوں درخواستیں جمع کرائے جانے کے بعد ایرانیوں کو تضحیک کا سامنا ہے۔ کل پارلیمنٹ میں اس وقت گرما گرم بحث ہوئی، جب ایک مذہبی شخصیت مکارم شیرازی نے ریڈیو پر انتخابات میں حصہ لینے کے لئے […]

لندن: عادل السالمی
ایران میں 19 مئی کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لئے سینکڑوں درخواستیں جمع کرائے جانے کے بعد ایرانیوں کو تضحیک کا سامنا ہے۔ کل پارلیمنٹ میں اس وقت گرما گرم بحث ہوئی، جب ایک مذہبی شخصیت مکارم شیرازی نے ریڈیو پر انتخابات میں حصہ لینے کے لئے درپیش مشکلات پر رجسٹریشن کے عمل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے "پوری دنیا میں ایران کی سُبکی اور اسکینڈل سے تعبیر کیا”۔
شیرازی کی جانب سے یہ تنقید ایرانی حکام کے بیانات کے جواب میں ہے، جن کے مطابق پانچ روز کے اندر 1636 سے زائد درخواستوں کا جمع کرایا جانا صدارتی انتخابات میں جوش و خروش کے عوامل میں سے ہے۔ لیکن شیرازی نے رجسٹریشن کے عمل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بار پر زور دیا کہ یہ "حکومت کے لائق نہیں” ہے۔