شعر۔۔۔ دروازہ پر دوبارہ دستک

محمود درویش بہت سارے لوگوں کا کہنا ہے کہ سیاست کو جب شعر میں پرویا جاتا ہے تو اس کا مطلب برداشت نہ کرنے والی چیز کو برداشت کرنا ہے بلکہ جیہ ال اوسٹین نامی ایک فلسفی نے "چیزیں کلمات کے ساتھ کیامعانلہ کرتی ہیں” نامی اپنی کتاب میں کہتے ہیں […]

شعر۔۔۔ دروازہ پر دوبارہ دستک

محمود درویش

بہت سارے لوگوں کا کہنا ہے کہ سیاست کو جب شعر میں پرویا جاتا ہے تو اس کا مطلب برداشت نہ کرنے والی چیز کو برداشت کرنا ہے بلکہ جیہ ال اوسٹین نامی ایک فلسفی نے "چیزیں کلمات کے ساتھ کیامعانلہ کرتی ہیں” نامی اپنی کتاب میں کہتے ہیں کہ شعر سنجیدگی کے مخالف ہوتا ہے اور سیاست کے غم کم اور وقتی ہوتے ہیں جس کی وجہ سے قصیدے اس زمانہ کے حکومت کی نمائش بن جاتے جس پر رحم نہیں کیا جاتا ہے۔

اتوار – 22 شوال 1438 ہجری – 16 جولائی 2017ء  شمارہ: (14110)