دمشق کی طرف سے ایرانی وجود کو قانونی حیثیئت حاصل
دمشق – لندن: "الشرق الاوسط” دمشق اور تہران نے کل ایرانی وزیر دفاع امیر حاتمی کی طرف سے ہونے والے شام کی دار الحکومت کے دورہ کے انتہاء کے وقت ایک ایسا دفاعی اور فوجی معاہدہ کیا ہے جس کی وجہ سے شام میں ایرانی فورسز اور اس کے میلیشیاؤں کی […]

دمشق – لندن: "الشرق الاوسط”
دمشق اور تہران نے کل ایرانی وزیر دفاع امیر حاتمی کی طرف سے ہونے والے شام کی دار الحکومت کے دورہ کے انتہاء کے وقت ایک ایسا دفاعی اور فوجی معاہدہ کیا ہے جس کی وجہ سے شام میں ایرانی فورسز اور اس کے میلیشیاؤں کی وجود کو قانونی حیثیئت مل چکا ہے اور یہ واقعہ شام کے مغرب میں روس کے دو فوجی اڈہ کے قیام کے سلسلہ میں ماسکو اور دمشق کے درمیان ہونے والے معاہدہ کے تین سال کے بعد ہوا ہے۔
تسنیم نامی نیوز ایجنسی نے حاتمی کے ذریعہ ان کی گفتگو کو نقل کیا ہے کہ اس معاہدہ کا مقصد شام کے اندر دفاعی انسفراٹرکچر کو مضبوط کرنا ہے اور اس کی وجہ سے شام کے اندر ایران کی شرکت اور اس کا وجود برقرار رہے گا اور تہران نے سنہ 2011ء سے ہونے والی جنگ میں بشار الاسد کے لیے سیاسی، فوجی اور مالی مدد فراہم کیا ہے۔(۔۔۔)
منگل – 16 ذی الحجہ 1439 ہجری – 28 اگست 2018ء شمارہ نمبر (14518)