ایران

بدعنوانی کی گفتگو میں ایران مشغول

لندن: عادل السالمی اقتصادی بحران اور مقامی کرنسی کی گراوٹ کے پیش نظر ایران کے اندر ماہرین اقتصادیات اور ذمہ داروں کو نشانہ بنانے والی گرفتاریوں نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے جسے بہترین سیل کے نام سے جانا گیا ہے اور ایک ایسا اصطلاح ہے جس سے اشارہ ایرانی […]

بدعنوانی کی گفتگو میں ایران مشغول

لندن: عادل السالمی

اقتصادی بحران اور مقامی کرنسی کی گراوٹ کے پیش نظر ایران کے اندر ماہرین اقتصادیات اور ذمہ داروں کو نشانہ بنانے والی گرفتاریوں نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے جسے بہترین سیل کے نام سے جانا گیا ہے اور ایک ایسا اصطلاح ہے جس سے اشارہ ایرانی ذمہ داروں کے ان فرزندوں کی طرف ہے جن پر شک ہے کہ انہوں نے بدعنوانی اور مال ودولت اور اثر ورسوخ کا غلط استعمال کیا ہے۔

ایرانی شہریوں نے سوشل نیٹ ورک کے ذریعہ ایک ایسا حملہ کیا ہے جس میں انہوں نے بڑے ذمہ داروں کو چیلنج کیا ہے کہ وہ اپنے جائداد اور اپنے بچوں کے قیام گاہوں اور ان مناصب تک پہنچنے کے لئے جن کے وہ ابھی ذمہ دار ہیں جو طریقہ کار اختیار کیا ہے ان کا انکشاف کریں اور ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف، شہریت کے امور کے سلسلہ میں ایرانی صدر کی خاتون اسسٹنٹ شہیندخت مولاوردی اور پارلیمنٹ میں صدر کے اسسٹنٹ حسین علی امیری کا شمار ان نمایاں لوگوں میں جنہوں نے اس حملہ سے اپنی خوشی اور نیک فالی کا اظہار کیا ہے۔

ایرانی رہنماء علی خامنئی نے پیر کے دن ہونے والے اپنے بیان میں ملک کے اندر ہونے والے موجودہ خلفشار اور بحران کے سلسلہ میں ایران کے اندرون پر لعنت وملامت کی ہے جبکہ انہوں نے دو دن قبل بدعنوانی کے سلسلہ میں ایک عدالت قائم کرنے کی اجازت دی ہے۔

ایرانی پراسیکیوٹر محمد جعفر منتظری نے کہا کہ بدعنوانی کے سلسلہ میں تحقیقات کرنے کا مطالبہ 850 شخص پر ہے اور ان میں بڑے ذمہ دار بھی شامل ہیں اور ضرورت پڑنے پر وزراء بھی اس کی گرفت میں آ سکتے ہیں اور انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ ایران کے مرکزی بینک کے ذمہ دار کے لئے علی الاعلان ایک عدالت قائم کرنے کا احتمال ہے۔

جمعرات – 05 ذی الحجہ 1439 ہجری – 16 اگست 2018ء شمارہ نمبر (14506)