ڈرون جہاز جدید جنگ کے ہتھیار
لندن: الشرق الاوسط ڈرونز جہاز آج کل ہر جدید جنگ کے ہتھیاروں کا لازمی حصہ بن چکے ہیں لیکن اس خطرناک ہتھیار کا استعمال صرف ملکوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ یہ جہاز مختلف میلیشیاؤں اور دہشت گرد گروہوں کو بھی دستیاب ہے جو ان روایتی ہتھیاروں کی جگہ ان کا […]

لندن: الشرق الاوسط
ڈرونز جہاز آج کل ہر جدید جنگ کے ہتھیاروں کا لازمی حصہ بن چکے ہیں لیکن اس خطرناک ہتھیار کا استعمال صرف ملکوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ یہ جہاز مختلف میلیشیاؤں اور دہشت گرد گروہوں کو بھی دستیاب ہے جو ان روایتی ہتھیاروں کی جگہ ان کا استعمال کرتی ہیں جو پچھلی جنگوں کے عنوان ہوا کرتے تھے۔
راڈاروں کی نظروں سے دور ہائی ٹیک قتلوں کے نفاذ، مقصود تک پہنچنے اور فضاؤں پر قابض ہونے والی قدرت کے ذریعہ مشرق وسطی کے بہت سے تنازعات میں ڈرون جہازوں کو دیکھا گیا ہے اور در حقیقت چھوٹی اور کم لاگت والے "ڈرون” اب صرف اسرائیلیوں ہی کے پاس نہیں ہیں حالانکہ ان کی اپنی پیداوار اور برآمد دوسروں سے کہیں زیادہ ہے لیکن یہ بہت سارے ممالک اور مختلف میلیشیاؤں کے ہاتھوں میں آگئے ہیں اور حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی سرزمین کی طرف داغے گئے میزائل اس بات کی دلیل ہیں کہ ان میلیشیاؤں اور دہشت گرد تنظیموں کے پاس بھی اس صرح کے خطرناک ہتھیار موجود ہیں۔(۔۔۔)
اتوار 09 محرم الحرام 1441 ہجری – 08 ستمبر 2019ء – شمارہ نمبر [14894]