تہران کے ایک خفیہ اسٹور میں یورینیم کے آثار
لندن: «الشرق الاوسط» بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے معائنے سے واقف سفارتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایجنسی نے تہران کے ایک مقام سے جو نمونہ لیا ہے اس کے بارے میں اسرائیلی وزیر اعظم بن یامن نٹن یاہو نے کہا کہ یہ خفیہ جوہری ذخیرہ ہے اور اس […]

لندن: «الشرق الاوسط»
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے معائنے سے واقف سفارتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایجنسی نے تہران کے ایک مقام سے جو نمونہ لیا ہے اس کے بارے میں اسرائیلی وزیر اعظم بن یامن نٹن یاہو نے کہا کہ یہ خفیہ جوہری ذخیرہ ہے اور اس نے یورینیم کے آثار کی موجودگی کو ظاہر کیا ہے اور ایران نے ابھی تک اس کی وضاحت نہیں کی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایجنسی یورینیم کے ذرات کے پائے جانے کی تحقیقات کر رہی ہے اور ایران سے اس کی وضاحت پیش کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے لیکن تہران نے ایسا نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے واشنگٹن کے ساتھ تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
اپریل میں نٹن یاھو نے تہران کے جنوب میں ایک مقام پر ایران کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق دستاویزات کے سب سے بڑے درجہ بند دستاویزات کے بارے میں بیان کیا ہے۔
پیر 10 محرم الحرام 1441 ہجری – 09 ستمبر 2019ء – شمارہ نمبر [14895]