درعا سے نجات پانے والا نوجوان لندن میں جل گیا
لندن: "الشرق الاوسط” شام کا 23 سالہ محمد الحاج علی درعا میں "دھماکہ خیز بیرل” بموں سے بچ گیا لیکن "امن اور بہتر زندگی کی تلاش” میں پناہ لینے کے کٹھن مرحلے کے بعد لندن کی آگ میں ختم ہوگیا۔ لیکن برطانوی دارالحکومت کے "گریفل ٹاور” میں جل کر ہلاک

لندن: "الشرق الاوسط”
شام کا 23 سالہ محمد الحاج علی درعا میں "دھماکہ خیز بیرل” بموں سے بچ گیا لیکن "امن اور بہتر زندگی کی تلاش” میں پناہ لینے کے کٹھن مرحلے کے بعد لندن کی آگ میں ختم ہوگیا۔ لیکن برطانوی دارالحکومت کے "گریفل ٹاور” میں جل کر ہلاک ہونا اس کے نصیب میں تھا۔
محمد نے لندن میں اپنے دو بھائیوں علی اور ہشام کے ساتھ پناہ لی تھی، تاکہ انجینرنگ کی تعلیم حاصل کریں اور وہ لندن کے اس ٹاور کی 14ویں منزل میں رہائش پذیر تھے۔
جب آگ لگی تب محمد اور علی دونوں گھر پر ہی تھے ، چنانچہ علی باہر نکل گیا کہ اس کا بھائی اس کے پیچھے آ جائے گا مگر محمد آگ کے تیز آلاؤ میں لپٹ گیا۔ "رویٹرز” نے علی کے بیان کو نقل کیا ہے کہ اس کا بھائی اسے آوازیں دے رہا تھا کہ "تم مجھے کیوں چھوڑ گئے ہو؟۔۔۔ میں سانس نہیں لے پا رہا ہوں”۔
اسی طرح محمد نے بدھ کی صبح شام میں موجود اپنے والد سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، آخری میسج جو اس نے اپنے اہل خانہ کو ارسال کیا اس میں اس نے کہا "آگ قریب آ رہی ہے، وہ یہاں پہنچ چکی ہے بائے”۔