عفرین میں ترک گولہ باری سے شام کی حکومتی افواج کا خیر مقدم

ماسکو کی طرف سے انقرہ اور دمشق کو براہ راست مذاکرات کی دعوت ۔۔۔ دو روز کے دوران غوطہ میں 200 ہلاکتیں   انقرہ: سعید عبد الرازق – بیروت: نذیر رضا – ماسکو: رائد جبر کل ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ شامی حکومت کے حامی جنگجوؤں کے قافلے؛ جو […]

عفرین میں ترک گولہ باری سے شام کی حکومتی افواج کا خیر مقدم
ماسکو کی طرف سے انقرہ اور دمشق کو براہ راست مذاکرات کی دعوت ۔۔۔ دو روز کے دوران غوطہ میں 200 ہلاکتیں

انقرہ: سعید عبد الرازق – بیروت: نذیر رضا – ماسکو: رائد جبر

کل ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ شامی حکومت کے حامی جنگجوؤں کے قافلے؛ جو کہ شیعہ باغیوں پر مشتمل ہیں، انہیں شام کے شمال مغربی علاقے عفرین میں داخلے سے روکا گیا اور ترک گولہ باری کے بعد وہ واپس پلٹنے پر مجبور کر دئے گئے، جیسا کہ "رویٹرز” نے مزید کہا ہے کہ یہ قافلہ "دہشت گردوں” کے ساتھ آزادانہ معاملات کرتا تھا۔ ترک صدر نے مزید کہا کہ اس گروہ کو بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی۔ (۔۔۔)

ماسکو کی جانب سے شامی حکومت اور کرد افواج کے مابین مذاکرات پر تحفظات کا اظہار کیا گیا اور اس بارے میں کسی بھی قسم کے مذاکرات میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا۔ جبکہ کل ماسکو نے وضاحت کی ہے کہ وہ انقرہ اور دمشق کے مابین براہ راست بات چیت کو ترجیح دیتا ہے۔

دوسری جانب، دمشق کے علاقے مشرقی غوطہ میں اتوار کے روز سے جاری شام کی سرکاری افواج کے فضائی حملوں اور شدید گولہ باری سے تقریبا 200 شہری جان بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔ (۔۔۔)

بدھ – 5 جمادى الآخرة 1439 ہجری – 21 فروری 2018ء  شمارہ: [14330]