داعش کی طرف سے شام میں اپنی سرگرمیوں کا آعاز اور القاعدہ کی پیروی
بیروت: بولا اسطيح انتہا پسند تنظیموں کے ماہرین نے یہ سمجھا کہ داعش تنظیم نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران شام میں اپنی سرگرمیوں کو آغاز ایسے طریقہ سے کیا ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ آہستہ آہستہ القاعدہ کے راستہ پر چل پڑا ہے۔ […]

بیروت: بولا اسطيح
انتہا پسند تنظیموں کے ماہرین نے یہ سمجھا کہ داعش تنظیم نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران شام میں اپنی سرگرمیوں کو آغاز ایسے طریقہ سے کیا ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ آہستہ آہستہ القاعدہ کے راستہ پر چل پڑا ہے۔
تنظیم کی طرف سے دیر الزور کے علاقہ میں شام کی ڈیموکریٹک فورسز کے مقابلہ میں فی الحال فوجی کارروائیاں نہر فرات کے مشرقی کنارہ پر مرکوز ہے جہاں داعش کا وجود چند گاؤں تک محدود ہے۔(۔۔۔)
مشرق وسطی اور خلیج کے فوجی تجزیہ سینٹر کے سربراہ رياض قهوجي نے "الشرق الاسط” کو بتایا ہے کہ داعش ایسے مرحلہ میں داخل ہو چکا ہے جو القاعدہ کے مشابہ ہے اگرچہ یہ تنظیم اس سے زیادہ خوفناک ہے اور انتہا پسند گروپوں کے ماہر عبد الرحمن الحاج نے اسی طرح کی بات کہی ہے کہ داعش "القاعدہ” کا ترقی یافتہ نسخہ ہے۔(۔۔۔)
بدھ – 28 رمضان المبارک 1439 ہجری – 13 جون 2018ء شمارہ نمبر: (14342)