حوثیوں کے ذریعہ اقوام متحدہ کا ہیڈکواٹر فوجی چھاؤنی میں تبدیل
لندن: بدر القحطانی حدیدہ کے اندر مقامی اور اقوام متحدہ کے ذرائع نے "الشرق الاوسط” سے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مسلح حوثیوں نے حدیدہ کے جنوب میں واقع دریہمی نامی ڈائریکٹوریٹ کے اندر اقوام متحدہ کے تابع ریلیف تنظیم کے غذاؤں کے گودام پر حملہ کرکے اس پر […]

لندن: بدر القحطانی
حدیدہ کے اندر مقامی اور اقوام متحدہ کے ذرائع نے "الشرق الاوسط” سے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مسلح حوثیوں نے حدیدہ کے جنوب میں واقع دریہمی نامی ڈائریکٹوریٹ کے اندر اقوام متحدہ کے تابع ریلیف تنظیم کے غذاؤں کے گودام پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کر لیا ہے۔
ہجرت اور نقل مکانی کی بین الاقوامی تنظیم کے اندر ایک ذمہ دار نے انکشاف کیا کہ گودام عالمی فوڈ پروگرام کے تابع ہے لیکن پروگرام کی خاتون ترجمان نے کہا کہ گودام تنظیم کی طرف واپس نہیں ہوگا اور عالمی فوڈ پروگرام کے ایک دوسرے ذریعہ سے معلوم ہوا کہ گودام ہجرت اور نقل مکانی کی بین الاقوامی تنظیم کو واپس ملے گا۔
ذرائع سے اس بات کا علم ہوا ہے کہ حوثیوں نے دریہمی میں واقع معاذ ابن جبل اسکول کے اندر گودام کو ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے لیکن انہوں نے اس سے قبل اس اسکول کے مشمولات کو خالی کر دیا تھا۔
اسی سلسلہ میں کل اقوام متحدہ نے تاکید کیا ہے کہ یمن کی طرف بھیجے گئے اقوام متحدہ کے سفیر گریفتھ نے یمنی حکومت اور ایران کی طرف سے مدد کردہ حوثی جماعت کو آئندہ ماہ کی چھ تاریخ کو جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کی دعوت دی ہے۔
اسی سلسلہ میں یمن کے وزیر خارجہ خالد الیمانی نے کہا کہ عام عوامی کانفرنس ماضی میں ہونے والے مذاکرات میں مستقل طور پر مرتب نہیں تھی اور مستقبل میں ہونے والے کسی مذاکرات میں بھی مرتب نہیں ہوگی اور انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں کانفرنس دو باتوں سے مرتب تھی ایک حکومت اور دوسرا باغی۔
ہفتہ – 07 ذی الحجہ 1439 ہجری – 18 اگست 2018ء شمارہ نمبر (14508)