حوثیوں کے ساتھ جنگ کرنے والے کی ماہانہ تنخواہ 70 ڈالر
صنعاء: "الشرق الاوسط” علاقائی شہریوں اور حوثیوں کی فوج میں بھرتی ہونے والوں کے رشتہ داروں نے گورنریٹ کے بچوں کی ماہانہ تنخواہ کا اندازہ ستر ڈالر لگایا ہے جسے باغی ہر ماہ اپنے جنگجو کو دیتے ہیں اور "الشرق الاوسط” نے شہریوں کی ایک جماعت اور صنعاء کی عام […]

صنعاء: "الشرق الاوسط”
علاقائی شہریوں اور حوثیوں کی فوج میں بھرتی ہونے والوں کے رشتہ داروں نے گورنریٹ کے بچوں کی ماہانہ تنخواہ کا اندازہ ستر ڈالر لگایا ہے جسے باغی ہر ماہ اپنے جنگجو کو دیتے ہیں اور "الشرق الاوسط” نے شہریوں کی ایک جماعت اور صنعاء کی عام جگہوں پر آنے جانے والے ان افراد کے ساتھ گفتگو کی جنہوں نے اپنے رشتہ داروں کے قصے سنائے اور یہ بھی بتایا کہ حوثی جماعت کس طرح اپنے قبضہ والے علاقہ میں جنگجؤون کو اپنے دام فریب میں کرتی ہے اور پھر انہیں موت کے سمندر میں ڈبو دیتی ہے۔
صنعاء کے اندر محمد نامی اجک ٹیکسی ڈرائور نے بتایا کہ اکثر وبیشتر گھر ایسے ہیں جن کی دیواریں مقتول شدہ ایک شخص یا دو شخص کی تصویر سے خالی نہیں ہیں اور اس وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ اس جماعت نے انہیں موت کے سمندر میں ڈبا دیا ہے اور اس نے اس علاقہ کے ہونے والے مقتولین کی تعداد کے بارے میں پوچھے جانے والے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں مقتولین کی تعداد تو شمار نہیں کر سکتا ہوں لیکن میں تاکید کے ساتھ کہ سکتا ہوں کہ حجہ نامی گورنریٹ علاقہ کے عزلہ بنی موہب کے ہر گاؤں میں کم سے کم سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
محمد نامی ایک ریٹائرڈ جج کا کہنا ہے کہ فقر وفاقہ، بےروزگاری، جہالت اور تعلیمی دائرہ کے سمٹ جانا یہی وہ اسباب ہیں جن کی وجہ سے حوثی جماعت کو مواقعہ ملا کہ وہ بہت سے نوجوانوں کے عقلوں پر قابض ہو گئی اور ان کو یہ کہ کر دھوکہ دیا کہ وہ ایک قومی جنگ میں ان کی قیادت ورہنمائی کر رہے ہیں۔
ہفتہ – 13 ذی الحجہ 1439 ہجری – 25 اگست 2018ء شمارہ نمبر (14515)