پہلا صفحہ

اہل سنت اور کردوں کو شیعہ کی طرف سے فرقہ وارانہ جماعت کی دھمکی

بغداد: حمزہ مصطفی کل ایک عراقی شیعی رہنماء نے فرقہ وارانہ طور پر جماعت بنانے کی دھمکی اس صورت میں دی ہے کہ اگر اہل سنت اور کرد ایسی بڑی جماعت بنانے سے متعلق اپنے شرائط پر اصرار کیا جو آئندہ حکومت کی تشکیل کرنے کی ذمہ دار ہو سکے۔ […]

اہل سنت اور کردوں کو شیعہ کی طرف سے فرقہ وارانہ جماعت کی دھمکی

بغداد: حمزہ مصطفی

کل ایک عراقی شیعی رہنماء نے فرقہ وارانہ طور پر جماعت بنانے کی دھمکی اس صورت میں دی ہے کہ اگر اہل سنت اور کرد ایسی بڑی جماعت بنانے سے متعلق اپنے شرائط پر اصرار کیا جو آئندہ حکومت کی تشکیل کرنے کی ذمہ دار ہو سکے۔

عمار الحکیم کی قیادت میں حکمت نامی جماعت کے ترجمان نوفل ابو رغیف نے ایسے مذاکرتی کمیٹی تشکیل کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں سائرون، نصرہ اور حکمت جماعت کی نمائندگی ہوگی اور انہوں نے مزید کہا کہ یہ کمیٹیاں کردون کی طرف حرکت کریں گی اور اسٹریٹیجک، معاہدے اور پروگرام کی بنیاد پر گفتگو واضح ہوگی اور انہوں نے وطنی محور نامی سنی اتحاد اور بڑی جماعت بنانے میں ان کی شرکت کے سلسلہ میں کہا کہ وہ جواب دینے کے سلسلہ میں زیادہ قادر ہیں۔

اسی سلسلہ میں حکمت نامی جماعت کے سیاسی دفتر کے رکن صلاح العرباوی نے "الشرق الاوسط” کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے واضح انداز میں کہا ہے کہ اہل سنت کی حیثیئت سے اہل سنت کا دائرہ اور کردوں کی حیثیئت سے کردوں کا دائرہ شیعہ کو دوسری مرتبہ بڑی جماعت بنانے پر آمادہ کر دے گا اور وہ سب سے زیادہ طاقتور، بڑی جماعت اور زیادہ تعداد والے ہو جائیں گے اور انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ شیعہ کو لڑنے دو کی آواز کی وجہ سے قومی موقعہ ہاتھ سے چلا جائے گا۔(۔۔۔)

اتوار – 14 ذی الحجہ 1439 ہجری – 26 اگست 2018ء شمارہ نمبر (14516)