امريكہ

پارلیمنٹ کو مطمئن کرنے میں ناکام ہونے کے بعد روحانی عدالت کا سامنا کرنے کے لئے تیار

لندن: عادل السالمی اب ایرانی صدر حسن روحانی کو کل پارلیمنٹ کے اراکین کے سامنے ان پانچ سوالوں میں سے چار کا جواب دینے کے سلسلہ میں ناکام ہونے کے بعد عدالت کا سامنا کرنا ہے اور ایرانی اقتصاد کی گراوٹ کے پیش نظر انہیں سوالات کی وجہ سے ان کو […]

پارلیمنٹ کو مطمئن کرنے میں ناکام ہونے کے بعد روحانی عدالت کا سامنا کرنے کے لئے تیار

لندن: عادل السالمی

اب ایرانی صدر حسن روحانی کو کل پارلیمنٹ کے اراکین کے سامنے ان پانچ سوالوں میں سے چار کا جواب دینے کے سلسلہ میں ناکام ہونے کے بعد عدالت کا سامنا کرنا ہے اور ایرانی اقتصاد کی گراوٹ کے پیش نظر انہیں سوالات کی وجہ سے ان کو پہلی مرتبہ پارلیمنٹ میں جواب دہی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

روحانی نے اپنے جواب کے دوران اس بات سے انکار کیا ہے کہ ایران کو کسی بحران کا سامنا ہے اور انہوں نے کہا کہ انہوں نے رہنماء علی خامنئی سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کی نصیحتوں پر عمل کریں گے۔

روحانی نے داخلی اتحاد پر کافی زور دیا ہے اور کہا ہے کہ اہل ایران اختلافات کے مقابلہ میں امریکی کاروائیوں اور پابندیوں سے بہت زیادہ نہیں ڈرتے ہیں اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ عوامی مظاہرے اس داخلی اختلافات کا نتیجہ ہے جس نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو جوہری معاہدہ سے نکلنے پر مجبور کیا ہے۔

لیکن ریاستہائے متحدہ امریکہ کے خلاف داخلی موقف کے سلسلہ میں اراکین پارلیمنٹ کے خلاف روحانی کا یہ آخری سوشہ بہت بعد میں اس وقت ظاہر ہوا جب اراکین نے ان چار سوالات کے سلسلہ میں ان کے جواب کو مسترد کر دیا جن سوالات کا تعلق بےروزگاری، کرنسی کی قیمتوں، اقتصادی گراوٹ اور ان کے معاشی پالیسیوں کی ناکامی سے ہے اور صدر روحانی نے بینک کی پابندیوں کے علاوہ کسی جواب میں اراکین کو مطمئن نہیں کیا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے قانون کے مطابق روحانی کو عدالت کا سامنا کرنا ہوگا اور ان پر جرم ثابت ہونے کی حالت میں ان کو معزول کرنے اور ان سے امید واپس لینے کا دروازہ کھلا ہوگا۔

بدھ – 17 ذی الحجہ 1439 ہجری – 29 اگست 2018ء شمارہ نمبر (14519)