قیاسی سطح تک ترکی لیرہ میں گراوٹ
انقرہ: "الشرق الاوسط” روئٹرز ایجنسی نے بتایا کہ کل ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے کہا کہ ان کے ملک کے خلاف مغرب کی طرف سے اعلان کردہ اقتصادی جنگ اس کے اقتصاد کو کرنسی کے بحران کی وجہ سے ختم نہیں کر سکے گا جبکہ اس سے قبل ترکی لیرہ […]

انقرہ: "الشرق الاوسط”
روئٹرز ایجنسی نے بتایا کہ کل ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے کہا کہ ان کے ملک کے خلاف مغرب کی طرف سے اعلان کردہ اقتصادی جنگ اس کے اقتصاد کو کرنسی کے بحران کی وجہ سے ختم نہیں کر سکے گا جبکہ اس سے قبل ترکی لیرہ میں چالیس فیصد گراوٹ کا مشاہدہ کیا گیا ہے اور کل اس کی قیمت قیاسی سطح تک پہنچ چکی ہے کہ ایک امریکی ڈالر کے مقابلہ میں اس کی قیمت 6.7 ہے۔
اردوگان نے ملک کے مغربی شمال میں واقع بالک اسیر کے علاقہ میں اپنے حامیوں کے سامنے کہا کہ اگر ان کے پاس ڈالر ہیں تو ہمارے پاس ہمارا اللہ ہے اور اسی طرح انہوں نے کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کے بارے میں کہا کہ وہ جھوٹے اور لٹیرے ہیں اور انہوں نے اہل ترکی کو آمادہ کیا کہ انہیں ان ایجنسیوں کے موازنات کی طرف توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
اسی اثناء ترکی کی صدارت نے کل صبح ترکی لیرہ کے ذریعہ ڈپازٹس پر ٹیکس کم کرنے کا فیصلہ جاری کیا ہے اور اناضول ایجنسی کے مطابق اس فیصلہ میں اس بات کا تذکرہ ہے کہ ترکی لیرہ کے ذریعہ ڈپازٹز پر ٹیکس کو کم کیا گیا ہے اور ایک سال گزرنے والے ڈپازٹس پر ٹیکس زیرو کر دیا گیا ہے۔
ہفتہ – 21 ذی الحجہ 1439 ہجری – 01 ستمبر 2018ء شمارہ نمبر (14522)