جزائر میں امازیگیہ تنازعہ دوبارہ شباب پر
جزائر: بوعلام غمراسہ جزائر میں امازیگیہ کو رائج کرنے کے داعیوں اور عربی زبان کے حامیوں کے درمیان از سر نو تنازعہ برپا ہو چکا ہے اور اس نئے تعلیمی سال کے آغاز ہوتے ہی اس تنازعہ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ جزائر میں اسلامی رجحان […]

جزائر: بوعلام غمراسہ
جزائر میں امازیگیہ کو رائج کرنے کے داعیوں اور عربی زبان کے حامیوں کے درمیان از سر نو تنازعہ برپا ہو چکا ہے اور اس نئے تعلیمی سال کے آغاز ہوتے ہی اس تنازعہ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
جزائر میں اسلامی رجحان کی ایک پارٹی کی خاتون صدر اور پارلیمنٹ کی رکن نے کہا کہ امازیگی شناخت کے متعصب افراد اور دہشت پسندوں کی طرف سے ان کو قتل کرنے کی دھمکی دی گئی ہے اور ان کے خلاف یہ حملہ اس وجہ سے ہوا ہے کیونکہ وہ ہمیشہ ان کے خلاف بولتی رہتی ہیں، جزائر کی شخصیت میں عربی گہرائی وگیرائی کی حمایت کرتی ہیں اور امازیگیہ زبان سکھانے کے سلسلہ میں ان کا موقف الگ ہے۔
پارلیمنٹ کی خاتون رکن، عدل وبیان پارٹی کی خاتون صدر نعیمہ صالحی کے شوہر محمد صالحی نے "الشرق الاوسط” کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دار الحکومت کے مشرقی گوشہ کے باب الزوار پولس سے شکایت بھی ہے اور ان دھمکیوں کے سلسلہ میں تحقیق جاری ہے اور نعیمہ صالحی نے اپنی طرف سے کل اپنے فیس بک کے صفحہ پر لکھا ہے کہ ان کے حامیوں نے دہشت پسند افراد کے خلاف عدالتی شکائت کرنے کے لئے دو وکیل کو ذمہ دار بنایا ہے۔(۔۔۔)
ہفتہ – 28 ذی الحجہ 1439 ہجری – 08 ستمبر 2018ء شمارہ نمبر (14529)