تہران سربراہی اجلاس کی ناکامی کے بعد ادلب پر سب سے سخت حملہ
ماسکو: رائد جبر انقرہ : سعید عبد الرازق چند ہفتوں کے دوران ہونے والے حملوں میں کل روسی جہازوں اور شامی حکومت کے ہیلی کاپٹر نے سب سے سخت حملہ کیا ہے اور یہ حملہ شمالی شام کے لئے راستہ کے نقشہ تک پہنچنے کے لئے ایران، ترکی اور روس کے […]

ماسکو: رائد جبر انقرہ : سعید عبد الرازق
چند ہفتوں کے دوران ہونے والے حملوں میں کل روسی جہازوں اور شامی حکومت کے ہیلی کاپٹر نے سب سے سخت حملہ کیا ہے اور یہ حملہ شمالی شام کے لئے راستہ کے نقشہ تک پہنچنے کے لئے ایران، ترکی اور روس کے درمیان ہونے والے ایک سربرایی اجلاس کی ناکامی کے بعد ہوا ہے اور جنوبی اور جنوبی مشرقی ادلب کے علاقوں کے گاۏں دیہات پر تین گھنٹوں سے کم وقت میں روسی جہازوں نے ساٹھ حملہ کیا ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ میزائل کے ذریعہ حملہ اور گولے بھی داغے گئے ہیں۔
اسی سلسلہ میں ترکی صدر رجب طیب اردوگان نے ٹیوٹر پر ہونے والے ٹیوٹ کے سلسلہ پرزور انداز میں کہا کہ انتطامیہ کے مفادات کو ترقی دینے کے لئے دسیوں بے قصور لوگوں کو قتل کئے جانے سے اگر پوری دنیا نے آنکھ بند کر لیا تو ہم تماشائی نہیں بنیں رہیں گے اور نہ ہی اس طرح کے کھیل میں شرکت کریں گے۔(۔۔۔)