مشرقی فرات میں ترکی کی طرف سے ہونے والا حملہ ملتوی
انقرہ: سعید عبد الرازق ۔ ماسکو: رائد جبر ۔ پیرس: مائکل ابو نجم کل ترکی صدر رجب طیب اردوگان نے شام سے اپنی فوج نکال لینے کے سلسلہ میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے کئے جانے والے اعلان کا استقبال کیا ہے اور انہوں نے اشارہ بھی کیا ہے […]

انقرہ: سعید عبد الرازق ۔ ماسکو: رائد جبر ۔ پیرس: مائکل ابو نجم
کل ترکی صدر رجب طیب اردوگان نے شام سے اپنی فوج نکال لینے کے سلسلہ میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے کئے جانے والے اعلان کا استقبال کیا ہے اور انہوں نے اشارہ بھی کیا ہے کہ انہوں نے مشرقی فرات کے علاقوں پر حملہ کرنے کے فیصلہ کو ملتوی کر دیا ہے۔
اردوگان نے اسطنبول میں اپنے خطاب کے دوان کہا کہ ان کا ملک شمالی شام کے اندر داعش کے اہلکار اور عوام کی حمایتی کرد یونٹس سے آزادی پانے کے سلسلہ میں کام کرے گا اور وہ شام میں داعش کے اہلکار سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے معاہدہ کے مطابق چودہ مہینوں کے اندر ٹرمہ سے گفتگو کرکے منصوبہ بنانے کے انتظار میں ہیں۔
اسی سلسلہ میں ترکی کے وزیر خارجہ مولود جایش اوگلو نے کہا کہ ہم پر ضروری ہے کہ ہم ریاستہائے متحدہ کے ساتھ واپسی کی ترتیب دیں اور ہم نے مختلف سطح پر براہ راست رابطہ قائم کیا ہے۔(۔۔۔)
ہفتہ 14 ربیع الثانی 1440 ہجری – 22 دسمبر 2018ء – شمارہ نمبر [14634]