امریکی وجود کے سلسلہ میں ہونے والے تنازعہ کے باوجود پومپیو کا عراق کا دورہ
بغداد: حمزہ مصطفی ۔ قاہرہ: "الشرق الاوسط” امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو عمان سے شروع کرنے والے مشرق وسطی کے اپنے دورہ کے ضمن میں کل تیسرے اسٹیشن قاہرہ پہنچے ہیں اور طے ہے کہ یہ دورہ دو دن پر مشتمل ہوگا جس کےدرمیان وہ یہاں کے بڑے ذمہ داروں سے […]

بغداد: حمزہ مصطفی ۔ قاہرہ: "الشرق الاوسط”
امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو عمان سے شروع کرنے والے مشرق وسطی کے اپنے دورہ کے ضمن میں کل تیسرے اسٹیشن قاہرہ پہنچے ہیں اور طے ہے کہ یہ دورہ دو دن پر مشتمل ہوگا جس کےدرمیان وہ یہاں کے بڑے ذمہ داروں سے گفتگو کریں گے ان میں سر فہرست صدر عبد الفتاح السیسی ہیں۔
کل پومپیو نے اپنے عراق کے اچانک دورہ کے دوران بغداد اور اپنے ملک کے درمیان اسٹریٹیجک شراکت پر زور دیا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ نے کہا کہ انہوں نے بغداد کے اندر پارلیمنٹ، حکومت اور ملک کے رہنماؤں اور اربیل میں کرد رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے دوران پرزور انداز میں کہا کہ امریکہ دونوں ملکوں کے درمیان اسٹریٹیجک دائرہ میں ہونے والے معاہدہ کی رو سے دو طرفہ طویل مدتی شراکت کی مدد کرے گا اور اسی طرح اس بات پر بھی زور دیا کہ عراق کے ڈیموکریٹک ادارے، حکومت، معاشی ترقی اور توانائی کی میدان میں خود مختاری کی ضرورت ہے اور انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ عراق علاقہ کے اندر ایک اسٹریٹیجک شریک ہے۔
اسی کے ساتھ سابق عراقی وزیر اعظم کی قیادت میں نصر اتحاد اور ان سے قبل وزیر اعظم نوری المالکی کی قیادت میں قانون کی حکومت اتحاد نے سنہ 2014ء کے بعد امریکی وجود کے سلسلہ میں ایک دوسرے پر الزام لگایا ہے اور نصر اتحاد نے تو یہ کہا کہ دہشت گرد داعش کے داخل ہونے وار گورنریٹ کو اپنے قبضے میں کرنے کے فورا بعد نوری المالکی کی حکومت کی طرف سے امریکی فورسز کو 24 جون سنہ 2014ء کو عراق کی طرف بلایا گیا ہے اور جہاں تک المالکی کی قیادت میں قانون کی حکومت اتحاد کی بات ہے تو اس نے العبادی پر امریکی فورسز کو نکالنے کے معاہدہ پر عمل درآمد کرنے کے سلسلہ میں لاپرواہی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
جمعرات 04 جمادی الاول 1440 ہجری – 10 جنوری 2019ء – شمارہ نمبر [14653]