سعودی عرب میں بدعنوانی تحقیقات کا اختتام اور 106 ارب ڈالر کا فائدہ
ریاض: "الشرق الاوسط” خادم حرمین شریفین نے عام بدعنوانی کی اعلی کمیٹی کے صدر ولی عہد شہزادہ محمد ابن سلمان کی طرف سے پیش کردہ رپورٹ کا جائزہ لیا ہے۔ کل شاہی دیوان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ خادم […]

ریاض: "الشرق الاوسط”
خادم حرمین شریفین نے عام بدعنوانی کی اعلی کمیٹی کے صدر ولی عہد شہزادہ محمد ابن سلمان کی طرف سے پیش کردہ رپورٹ کا جائزہ لیا ہے۔
کل شاہی دیوان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ خادم حرمین شریفین نے اس کمیٹی کی تحقیق کو ختم کرنے کا فرمان جاری کیا ہے جس کمیٹی کی وجہ سے بدعنوانی میں ملوث افراد کے ساتھ ہونے والی تحقیق میں 400 ارب سعودی ریال یعنی 106 ارب ڈالر کا فائدہ ہوا ہے۔
بیان میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ 381 شخص جو بلایا گیا تھا جن میں بعض افراد کو اپنے دلائل پیش کرنے کے لئے بلایا گیا تھا اور تمام ملوث افراد کی فائلوں کا مطالعہ کیا گیا اور ملزمین سے پوچھ تاچھ بھی کی گئی اور جنرل پراسیکیوشن کی نگرانی میں اس مسئلہ کا حل بھی کیا گیا اور جن کے خلاف بدعنوانی کا الزام ثابت نہیں ہوا ہے انہیں رہا کر دیا گیا اور 87 افراد کے ساتھ ہونے والی تحقیق میں ان کے اقرار اور قبول کرنے کے بعد معاملہ کو اختتام تک پہنچایا گیا ہے۔
تحقیقاتی کاروائی کرنے کے لئے 56 افراد ک جنرل پراسیکیوشن کے حوالہ کیا گیا جبکہ اٹارنی جنرل نے ان کے اوپر دیگر جرائم ہونے کی وجہ سے معاملہ کو حل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جن کے سلسلہ میں معاملہ کو حل نہ کیا جا سکا اور ان کے حق میں بدعنوابی کا الزام ثابت ہوا ان کی تعداد کل آٹھ ہے اور انہیں پبلک پراسیکیوشن کے حوالہ کر دیا گیا اور بیان میں مزید کہا گیا کہ کمپنی، ریل اسٹیٹ اور دیگر ذرائع کے ذریعہ ملک کے بیت المال میں 400 ارب سے زیادہ کی رقم وصول کی گئی ہے اور اس طور پر کمیٹی نے اپنی ذمہ داری ادا کردی ہے اور اپنی تشکیل کے مقصد کو بھی پورا کر لیا ہے لہذا اب اس کی کاروائی ختم کرنے کا مطالبہ ہے۔
یاد رہے کہ خادم حرمین شریفین نے 4 نومبر سنہ 2017ء کو عام مفادات کی بنیاد پر بدعنوانی کی مسائل میں ملوث ادارے اور اشخاص اور جرائم اور خلاف ورزیوں کو کنٹرول کرنے کے لئے ولی عہد کی صدارت میں ایک اعلی کمیٹی تشکیل کرنے کے سلسلہ میں شاہی فرمان جاری کیا تھا۔
جمعرات 22 جمادی الاول 1440 ہجری – 31 جنوری 2019ء – شمارہ نمبر [14674]