مالدار علاقہ کراکاس کو اپنی روٹی کی تلاش
کراکاس: شوقی الریس فنزویلا کی دار الحکومت کراکاس میں رات بالکل تاریک تھی جبکہ گذشتہ دہائیوں میں لاتینی امریکہ کے اندر یہ شہر سب سے مالدار شہر تھا اور آج اس کی چوتھائی عوام کوڑوں کے ڈھیر میں کھانا تلاش کر رہی ہے اور شام میں سڑکیں ان لوگوں کی حرکت […]

کراکاس: شوقی الریس
فنزویلا کی دار الحکومت کراکاس میں رات بالکل تاریک تھی جبکہ گذشتہ دہائیوں میں لاتینی امریکہ کے اندر یہ شہر سب سے مالدار شہر تھا اور آج اس کی چوتھائی عوام کوڑوں کے ڈھیر میں کھانا تلاش کر رہی ہے اور شام میں سڑکیں ان لوگوں کی حرکت سے خالی ہو جاتی ہے جو پریشانی کی حالت میں سوتے ہیں اور ہر صبح نامعلوم چیز کے خوف کے ساتھ جاگتے ہیں۔
ایئرپورٹ سے ہوٹل جاتے وقت "الشرق الاوسط” کے نمائندہ نے ایسے دلائل دیکھے جن سے یہ یقین ہو گیا کہ یہ شہر اب اس شہر جیسا بالکل ہی نہیں لگ رہا ہے جس کا دورہ انہوں نے نو سال پہلے کیا تھا اور یہ سب جانے والے صدر ہوگو کے تجربہ کی ناکامی کے علامات ہیں جس نے فنزویلا کو آج موجودہ تاریخ میں سب سے خراب اقتصادی حالت میں پہنچا دیا ہے اور عوام کو ایک سخت مصیبت میں ڈال دیا ہے کہ وہ محصور صدر نیکولاس ماڈورو کے ساتھ دشمنی پر اتر آئے اور پارلیمنٹ کے صدر خان گوائڈو نے اپنے آپ کو وقتی صدر ہونے کا اعلان کر دیا۔
کراکاس میں عام لوگوں کی گفتگو دوسری چیزوں کے مقابلہ انڈے، چاول، دودھ، مرغی اور اپنے گھر سلامتی کے ساتھ واپس ہونے کے سلسلہ میں ہو رہی ہے اور اجرت اس قدر کم ہیں کہ ان سے کم سے کم ایک درجن انڈے، پانچ لیٹر دودھ، ایک کیلو چاول اور ایک کیلو گوشت سے زیادہ کوئی اور چیز کھریدا نہیں جا سکتا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے آگاہ کیا ہے کہ اس بحران کے وقت سے فنزویلا کے آدھے شہریوں کا وزن پانچ کیلو کم ہو گیا ہے اور سنہ 2014ء سے قومی آمدنی آدھی ہو چکی ہے اور ہر شخص کی آمدنی اس معیار پر پہنچ چکی ہے جو معیار گذشتہ صدی پچاسویں دہائی میں تھا۔
بدھ 01 جمادی الآخر 1440 ہجری – 06 فروری 2019ء – شمارہ نمبر[14680]