پہلا صفحہ

سوچی کانفرنس میں پرامن علاقہ اور ادلب کا مسئلہ حل نہ ہو سکا

ماسکو: رائد جبر کل سوچی میں روسی صدر ولادیمئر پوٹن، ایرانی صدر حسن روحانی اور ترکی صدر رجب طیب اردوگان کی طرف سے منعقدہ کانفرنس شام کے اندر پرامن علاقہ اور ادلب کے مسئلہ کو حل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے جبکہ اس سے قبل اس کانفرنس کے سلسلہ میں […]

سوچی کانفرنس میں پرامن علاقہ اور ادلب کا مسئلہ حل نہ ہو سکا

ماسکو: رائد جبر

کل سوچی میں روسی صدر ولادیمئر پوٹن، ایرانی صدر حسن روحانی اور ترکی صدر رجب طیب اردوگان کی طرف سے منعقدہ کانفرنس شام کے اندر پرامن علاقہ اور ادلب کے مسئلہ کو حل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے جبکہ اس سے قبل اس کانفرنس کے سلسلہ میں یہ امیدیں کی جا رہی تھیں کہ اس میں سیاسی اور میدانی دونوں اعتبار سے منصوبہ بنایا جائے گا اور نصرہ فرنٹ کے اثر ورسوخ کو کم کرنے کے لئے ادلب کے فوجی کاروائی کی ضرورت کے سلسلہ میں روسی لہجہ نے یقین بھی دلایا تھا لیکن اختتامی صحافتی کانفرنس کے بیان میں اس کے برعکس ظاہر ہوا کہ یہ تینوں صدر دونوں مسئلہ کو حل کرنے کے سلسلہ میں ناکام ہو چکے ہیں۔

پوٹن اور روحانی دونوںنے  پرزور انداز میں کہا کہ شام کے اندر دہشت گردی کے وجود کو ختم کرنے اور تمام سرزمیں کو قانونی حکومت کے حوالہ کرنے کی ضرورت ہے اور اردوگان نے ازسر نو ادلب میں فوجی کاروائی نہ کرنے کی تاکید کی ہے اور کہا کہ حلب جیسا منظر بنانا ممکن نہیں ہے۔

جمعہ 10 جمادی الآخر 1440 ہجری – 15 فروری 2019ء – شمارہ نمبر [14689]