اتحاد کی طرف سے حدیدہ میں اپنی فورس متعین کرنے کی تجویز
ریاض: عبد الہادی حبتور وارسو: "الشرق الاوسط” کل یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد نے کہا کہ وہ اسٹوکہولوم معاہدہ کو نافذ کرنے کے مقصد سے حوثی دشمنی کے بعد حدیدہ گورنریٹ میں حکومتی فورسز کے ساتھ اپنی فورس متعین کرنے کے لئے تیار ہے۔ […]

ریاض: عبد الہادی حبتور وارسو: "الشرق الاوسط”
کل یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد نے کہا کہ وہ اسٹوکہولوم معاہدہ کو نافذ کرنے کے مقصد سے حوثی دشمنی کے بعد حدیدہ گورنریٹ میں حکومتی فورسز کے ساتھ اپنی فورس متعین کرنے کے لئے تیار ہے۔
اتحاد نے اپنے بیان میں کہا کہ اسٹوکہولوم کے معاہدہ پر چھ ماہ کا وقت گزر چکا ہے اور اس دوران یمن کی سرکاری فورسز نے ہر جانب سے جنگ بندی کی پابندی کی ہے۔(۔۔۔) سارے اشارے اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ باغی میلیشیائیں معاہدہ کے بنود کو نافذ کرنے والے نہیں ہے اور وہ گورنریٹ اور شہر کے اندر فوجی طاقت کو بنانے کے لئے وقت حاصل کرنے کے مقصد سے جان بوجھ کر اس میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہے۔
اس بیان میں پرزور انداز میں کہا گیا ہے کہ یمن کی طرف بھیجے گئے اقوام متحدہ کے سفیر کی قیادت میں سیاسی کاروائی کی مدد اور اسٹوکہولوم معاہدہ کی کامیابی کے مقصد سے اتحاد کی فورسز اس بات کی تاکید کر رہی ہے کہ وہ اسٹوکہولوم کے معاہدہ کے مطابق متعین کرنے کے لئے تیار ہے اور اقوام متحدہ اور یمن کی طرف بھیجے گئے اقوام متحدہ کے سفیر باغی میلیشیاؤں پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ اسٹوکہولوم کے معاہدے نافذ ہوں اور اگر نافذ نہ ہو سکیں تو اس کی ذمہ داری یہ میلیشیاؤں پر ہے۔
جمعہ 10 جمادی الآخر 1440 ہجری – 15 فروری 2019ء – شمارہ نمبر [14689]