پہلا صفحہ

اضنہ نامی معاہدہ کے نفاذ کے سلسلہ میں ماسکو اور انقرہ کے درمیان دو رکاوٹیں

لندن: ابراہیم حمید مغربی ڈپلومیٹک ذرائع نے "الشرق الاوسط” سے بات کرتے ہوئے پرزور انداز میں کہا ہے کہ سنہ 1998ء میں انقرہ اور دمشق کے درمیان ہونے والے اضنہ معاہدہ کو نافذ کرنے کے سلسلہ میں روس اور ترکی کے درمیان دو رکاوٹیں حائل ہو چکی ہیں کیونکہ اس معاہدہ […]

اضنہ نامی معاہدہ کے نفاذ کے سلسلہ میں ماسکو اور انقرہ کے درمیان دو رکاوٹیں

لندن: ابراہیم حمید

مغربی ڈپلومیٹک ذرائع نے "الشرق الاوسط” سے بات کرتے ہوئے پرزور انداز میں کہا ہے کہ سنہ 1998ء میں انقرہ اور دمشق کے درمیان ہونے والے اضنہ معاہدہ کو نافذ کرنے کے سلسلہ میں روس اور ترکی کے درمیان دو رکاوٹیں حائل ہو چکی ہیں کیونکہ اس معاہدہ کی بنیاد پر ترکی فوج کو شمال شام کے اندر پانچ کیلو میٹر تک گھس کر دہشت گردوں کو پکڑنے کی اجادت ہوگی۔

روسی صدر ولادیمئر پوٹن نے اپنے ترکی ہم منصب رجب طیب اردوگان کے سامنے امریکی انخلاء کے بعد مشرقی فرات میں واشنگٹن کے ساتھ تعاون کرکے ایک پرامن علاقہ قائم کرنے کے بجائے اضنہ معاہدہ کو نافذ کرنے کی تجویز رکھی تھی۔

ان ذرائع نے یہ بھی واضح کیا کہ اس معاہدہ کے نفاذ کے سلسلہ میں ابھی دو رکاوٹیں حائل ہیں کیونکہ ترکی یہ چاہتا ہے کہ شمال شام میں اس کی فوج کا داخلہ امریکہ کی جانب سے ہو کیونکہ اس کی بنیاد پر اسے 28 سے 32 کیلو میٹر تک اندر جانے کا موقعہ مل جائے گا اور روس یہ چاہتا ہے کہ انقرہ اور دمشق کے درمیان سیاسی تعلقات قائم رہیں جبکہ ترکی دمشق کے ساتھ سیکورٹی تعاون کرنے کی منظوری نہیں دے رہا ہے اور وہ اس کے ساتھ سیاسی تعلق بھی قائم کرنا نہیں چاہتا ہے۔(۔۔۔)

جمعہ 17 جمادی الآخر 1440 ہجری – 22 فروری 2019ء – شمارہ نمبر [14696]