سوڈانی تحریک کی طرف سے "مکمل استسنائيت” کا انکار
خرطوم: احمد یونس سوڈان پیشہ ورانہ جماعت نے بڑی سختی کے ساتھ انتقالی فوجی کونسل کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس میں مزيد تین مہینے کے لئے ہنگامی صورتحال کی بات کی گئی ہے اور اسی کے ساتھ اس جماعت نے اس فیصلہ کے خاتمے کا مطالبہ کیا […]

خرطوم: احمد یونس
سوڈان پیشہ ورانہ جماعت نے بڑی سختی کے ساتھ انتقالی فوجی کونسل کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس میں مزيد تین مہینے کے لئے ہنگامی صورتحال کی بات کی گئی ہے اور اسی کے ساتھ اس جماعت نے اس فیصلہ کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے اور اسی طرح اس جماعت نے آئینی اعلامیہ کے اس مسودہ کا بھی بائکاٹ کیا ہے جس میں "مکمل استسنائيت” کی بات کی گئی ہے۔
انتقالی فوجی کونسل کے سربراہ عبد الفتاح البرهان نے پرسو ایک بیان جاری کیا ہے جس میں ملک کے اندر مزید تین مہینے کے لئے ہنگامی صورتحال کو بڑھا دیا ہے لیکن اس توسیع کے لئے کوئی جواز نہیں پیش کیا ہے۔
ایسا لگ رہا ہے کہ "مکمل استسنائيت” کا یہ دستاویز سوڈانی تحریک نمائندگی کرنے والی آزادی اور تبدیلی پارٹی کے رہنماؤں اور انتقالی فوجی کونسل کے درمیان حتمی معاہدے تک پہنچنے کے راستہ کے لئے اہم رکاوٹ ہے۔
بدھ 14 ذی قعدہ 1440 ہجری – 17 جولائی 2019ء – شمارہ نمبر [14841]