اربیل کے حملہ کی وجہ سے واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ
اربیل: احسان عزیز انقرہ: سعید عبد الرازق واشنگٹن: ایلی یوسف مغربی ڈپلومیٹک ذرائع نے الشرق الاوسط کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کل عراقی کردستان کے اربیل کے اندر ترکی کے نائب کونسلیٹ کی ہلاکت ایک ایسی آگ ہے جس کی وجہ سے مشرقی شام کے پرامن علاقہ کے قیام کے […]

اربیل: احسان عزیز انقرہ: سعید عبد الرازق واشنگٹن: ایلی یوسف
مغربی ڈپلومیٹک ذرائع نے الشرق الاوسط کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کل عراقی کردستان کے اربیل کے اندر ترکی کے نائب کونسلیٹ کی ہلاکت ایک ایسی آگ ہے جس کی وجہ سے مشرقی شام کے پرامن علاقہ کے قیام کے سلسلہ میں انقرہ کے اندر امریکہ اور ترکی کے درمیان ہونے والی گفت وشنید کے اجلاسات سے قبل ان کے درمیان مزید کشیدگی پیدا ہو جائے گی۔
اربیل پولس کے ایک ذمہ دار نے وضاحت کے ساتھ کہا کہ ترکی کے کونسلیٹ کے ساتھ دو اور شخص اس مسلح حملہ میں ہلاک ہوئے ہیں جس میں کونسلیٹ اور اس کے کارندوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور یہ حملہ اس وقت ہوا جب وہ ایک ہوٹل میں موجود تھے اور عجیب بات یہ ہے کہ حملہ کرنے والا فرار ہو گیا۔
ترکی کی اناضول نیوز ایجنسی نے بتایا کہ حملہ آور تن تنہا سول لباس میں ملبوس تھا اور اس کے پاس دو پستول تھے اور اس نے براہ راست ترکی کونسلیٹ کے کارندوں پر گولی چلا دی۔(۔۔۔)
جمعرات 15 ذی قعدہ 1440 ہجری – 18 جولائی 2019ء – شمارہ نمبر [14842]