پہلا صفحہ

جزائری تحریک کی طرف سے حکومت کے ثالثی کا انکار

جزائر: بوعلام غمراسہ جمعہ کے دن ہونے والے جزائر کے مظاہرہ میں لگائے جانے والے نعروں میں اور ہاتھ میں لئے ہوئے بینروں میں ان 23 ثالثی کو نشانہ بنایا گیا ہے جنہیں انتقالی صدر عبد القادر ابن صالح نے مظاہرین اور حکومت کے درمیان گفت وشنید کرنے کے لئے اختیار کیا […]

جزائری تحریک کی طرف سے حکومت کے ثالثی کا انکار

جزائر: بوعلام غمراسہ

جمعہ کے دن ہونے والے جزائر کے مظاہرہ میں لگائے جانے والے نعروں میں اور ہاتھ میں لئے ہوئے بینروں میں ان 23 ثالثی کو نشانہ بنایا گیا ہے جنہیں انتقالی صدر عبد القادر ابن صالح نے مظاہرین اور حکومت کے درمیان گفت وشنید کرنے کے لئے اختیار کیا ہے۔

تحریک کے سرگرم افراد نے وزير اعظم نور الدین بدوی کی حکومت کے خاتمہ سے قبل مسئلہ کو حل کرنے کے سلسلہ میں حکومت کی طرف سے آنے والی کسی بھی کوشش میں شامل ہونے سے قطعی طور پر انکار کر دیا ہے اور انہوں نے ایسے بینروں کو بلند کیا جس میں لکھا ہوا تھا کہ اس حکومتی جماعت کے ساتھ کوئی گفت وشنید نہیں ہو سکتی ہے اور ملک کے بڑے شہروں میں اور خاص طور پر دار الحکومت، مغرب میں واقع وہران، مشرق میں واقع قسنطینہ اور قبائلی علاقہ کے بجایہ علاقہ کے اندر ہونے والے مظاہرات میں اٹھائے جانے والے بینروں میں سب سے نمایاں یہی بینر تھا اور اس سے صاف ظاہر تھا اس کوشش کو مسترد کر دیا گیا ہے جس کا اعلان انتقالی صدر عبد القادر ابن صالح نے پرسو کیا ہے اور اس کوشش میں 6 لوگوں کو مظاہرین اور حکومت کے درمیان ثالثی کا کام انجام دینے کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔

مظاہرین نے اس بات سے انکار کیا کہ یہ لوگ حکومت کے نزدیک ان کے ترجمان اس بنیاد پر ہوں کہ وہ لوگ ان کے اختیار کردہ نہیں ہیں اور اس بنیاد پر بھی یہ لوگ حکومت سے قربت نہیں چاہتے ہیں کیونکہ وہ لوگ غیر قانونی ہیں۔(۔۔۔)

ہفتہ 24 ذی قعدہ 1440 ہجری – 27 جولائی 2019ء – شمارہ نمبر [14851]