یمنی مسئلہ کو حل کرنے کے سلسلہ میں قانونی طریقہ پر اقوام متحدہ کا زور
ریاض: عبد الہادی حبتور کل سعودی عرب نے پرزور انداز میں کہا کہ یمن کے اندر فرقہ واریت کو ختم کرکے گفت وشنید اور حکمت کو غالب کرنے کی ضرورت ہے اور ازسر نو اس نے جدہ کے اجلاس کی دعوت ہے اور اس موقعہ پر امارات کو نشانہ بنانے والے […]

ریاض: عبد الہادی حبتور
کل سعودی عرب نے پرزور انداز میں کہا کہ یمن کے اندر فرقہ واریت کو ختم کرکے گفت وشنید اور حکمت کو غالب کرنے کی ضرورت ہے اور ازسر نو اس نے جدہ کے اجلاس کی دعوت ہے اور اس موقعہ پر امارات کو نشانہ بنانے والے حملے کی مذمت بھی کی۔
کل جدہ کے اندر واقع سلام محل میں خادم حرمین شریفین شاہ سلمان ابن عبد العزیز کی صدارت میں منعقدہ ایک اجلاس کے ذریعہ سعودی عرب کی کابینہ نے پرزور انداز میں کہا کہ جدہ کے اجلاس کی دعوت اس وجہ سے ہے کیونکہ مملکت سعودیہ عربیہ یہ چاہتا ہے کہ ایران کی طرف سے مدد کردہ دہشت گرد حوثی میلیشیاؤں اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے صف کو متحد کیا جائے، فتنہ اور فرقہ واریت کو ختم کیا جائے اور گفت وشنید اور حکمت کے طریقہ کو غالب کیا جایے اور دوبارہ ملک کو پرامن بنایا جائے۔(۔۔۔)
بدھ 27 ذی الحجہ 1440 ہجری – 28 اگست 2019ء – شمارہ نمبر [14883]