شمالی شام میں پرامن علاقے اور ادلب کے سلسلہ میں پوتن اور اردوگان کے درمیان بات چیت
ماسکو: رائد جبر گذشتہ روز روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور ان کے ترک ہم منصب رجب طیب اردوگان کے درمیان ہونے والی گفتگو میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ شمالی شام میں پرامن علاقے کے قیام کے بارے میں خیالات قریب ہوئے اور پوتن نے کہا کہ اس ترقی کی […]

ماسکو: رائد جبر
گذشتہ روز روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور ان کے ترک ہم منصب رجب طیب اردوگان کے درمیان ہونے والی گفتگو میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ شمالی شام میں پرامن علاقے کے قیام کے بارے میں خیالات قریب ہوئے اور پوتن نے کہا کہ اس ترقی کی وجہ سے شامی سرزمین کی سالمیت کے تحفظ کے لئے مثبت حالات فراہم کرنے میں مدد ملے گی لیکن ادلب کی صورتحال سے نمٹنے کے طریقۂ کار کے سلسلہ میں اختلاف پیدا ہوا ہے۔
ایک طرف خطے سے دہشت گردی کے خطرے کو ختم کرنے کے اقدامات کے سلسلہ میں روسی صدر نے مفاہمت کی تاکید کی ہے تو دوسری طرف اردوگان نے سوچی سمجھوتے کے نفاذ کی ناکامی کی ذمہ داری شامی حکومت پر عائد کیا ہے اور سختی کے ساتھ کہا کہ ادلب اور اس کے ارد گرد علاقوں کے شہریوں کو نشانہ بنانے کی کاروائی اب ہرگز قبول نہیں ہوگی۔
دونوں صدور نے آپس میں ایک ایسی میٹنگ منعقد کی جس کے بارے میں پوٹن نے کہا کہ یہ میٹنگ تفصیلی اور جامع تھی اور یاد رہے کہ یہ میٹنگ "میکس” انڈسٹریز کے اس نمائش کے بعد ہوئی جس کے افتتاحی تقریب میں اردوگان نے کل شرکت کی تھی اور یہ دورہ بہت جلد منظم کیا گیا تھا تاکہ شامی فائل کے سلسلہ میں خیالات کو قریب کیا جا سکے۔(۔۔۔)
بدھ 27 ذی الحجہ 1440 ہجری – 28 اگست 2019ء – شمارہ نمبر [14883]