"آئینی” معاہدہ حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان برابر كرتا ہے
لندن: ابراہیم حمیدی اقوام متحدہ کے سفیر گرڈ پیڈرسن نے شامی حکومت اور حزب اختلاف ” بات چیت کمیشن” کو آئینی کمیٹی کے ناموں اور 2254 بین الاقوامی قرار داد کے تحت اسکے کام کے قوانین کے معاہدے تک رسائی حاصل کرنے کو آسان بنانے کے سلسلے میں کامیابی حاصل کی ہے- 12 سیاسی […]

لندن: ابراہیم حمیدی
اقوام متحدہ کے سفیر گرڈ پیڈرسن نے شامی حکومت اور حزب اختلاف ” بات چیت کمیشن” کو آئینی کمیٹی کے ناموں اور 2254 بین الاقوامی قرار داد کے تحت اسکے کام کے قوانین کے معاہدے تک رسائی حاصل کرنے کو آسان بنانے کے سلسلے میں کامیابی حاصل کی ہے- 12 سیاسی بنیادی کاغذوں کے بعد 2011 کے موسم بہار میں شروع ہونے والے بحران کے بعد سے یہ پہلا شامی معاہدہ ہوگا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے حکومت اور کمیشن کو 2254 کے قرار داد کے تحت اپنے خاص سفیر کی مدد سے ایک قابل اعتماد، متوازن اور جامع آئینی کمیٹی کی تشکیل دینے کی منظوری کا اعلان کر دیا ہے، اور یہ کمیٹی آنے والے ہفتوں میں منعقد ہوگی تاکہ ایک ایسا سیاسی راستہ کے آغاز کو تشکیل دے جو اہل شام کی امنگوں اور شام کی خود مختاری کے عزم ، اسکے استحکام اور وحدت اور علاقائی سالمیت پر پورا اترتا ہو۔(…)(منگل 25 محرم 1441 ہجرى/ 24 سبتمبر 2019ء شماره نمبر 14910)