بغداد کا "محاصرہ” احتجاج کو روکنے میں ہوا ناکام …مظاہرین کی طرف سے پابندی اور گولیوں کے چیلنج کے ساتھ ہی تشدد کا دائرہ ہوا وسیع … ایرانی عدم اطمینان کے بعد بھیڑ کے کردار سے خدشات
بغداد: حمزہ مصطفی۔ لندن: «الشرق الاوسط” عراقی حکومت کی طرف سے راستوں کے بند کرنے اور کرفیو کے اعلان کے ذریعے بغداد پر عائد کردہ سخت محاصرہ کل بڑھتے مظاہروں پر قابو نہیں پاسکا ، بلکہ مظاہروں نے مزید پر تشدد رخ اختیار کرلیا ہے، جبکہ گزشتہ منگل کو مظاہرے ہونے سے ہلاکتوں کی تعداد […]

بغداد: حمزہ مصطفی۔ لندن: «الشرق الاوسط”
عراقی حکومت کی طرف سے راستوں کے بند کرنے اور کرفیو کے اعلان کے ذریعے بغداد پر عائد کردہ سخت محاصرہ کل بڑھتے مظاہروں پر قابو نہیں پاسکا ، بلکہ مظاہروں نے مزید پر تشدد رخ اختیار کرلیا ہے، جبکہ گزشتہ منگل کو مظاہرے ہونے سے ہلاکتوں کی تعداد دو پولیس اہلکار سمیت 30 سے زائد افراد تک پہونچ گئی تھی۔
سیکیورٹی فورسز کے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے گولیوں سے فائر کرنے کے باوجود ، سینکڑوں افراد گذشتہ روز وسط بغداد میں جمع ہوئے اور تحریر اسکوائر میں ٹائر جلائے۔ کچھ مظاہرین نے سیکیورٹی فورسز سے وابستہ بکتر بند گاڑیاں بھی نذر آتش کیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سب سے بڑے مظاہرے جنوبی گورنریٹ میں ہوئے ، جس میں سرکاری ہیڈکوارٹرز کو نذر آتش کیا گیا۔ ان میں سے ایک، گورنریٹ ذی قار میں ہوۓ مظاہرے میں نصف سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔ (…) (جمعہ5 صفر 1441 ہجرى/ 4 اکتوبر 2019ء شماره نمبر 14913)