ايشيا

عرب نے کی ترک "جارحیت” کی مذمت اور تعلقات کم کرنے کے لئے پیش کئے تجویز

قاہرہ: سوسن ابو حسین – انقرہ: سعید عبد الرازق عرب وزرائے خارجہ کی کونسل نے گزشتہ روز قاہرہ میں ہوئے ہنگامی اجلاس کے اختتام پر شام کے شمال مشرق پر ترکی کی جارحیت کی مذمت کی، اور انقرہ کے ساتھ سفارتی اور فوجی تعلقات کم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ جامعہ دول عربیہ کے […]

عرب نے کی ترک "جارحیت” کی مذمت اور تعلقات کم کرنے کے لئے پیش کئے تجویز

قاہرہ: سوسن ابو حسین – انقرہ: سعید عبد الرازق

عرب وزرائے خارجہ کی کونسل نے گزشتہ روز قاہرہ میں ہوئے ہنگامی اجلاس کے اختتام پر شام کے شمال مشرق پر ترکی کی جارحیت کی مذمت کی، اور انقرہ کے ساتھ سفارتی اور فوجی تعلقات کم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ جامعہ دول عربیہ کے جنرل سکریٹری احمد ابوالغیط نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ، "جارحیت کے سلسلے میں عرب وزارتی وفد کا سلامتی کونسل کے لئے ممکنہ دورہ ہوسکتا ہے۔” اور انہوں نے اجلاس میں عرب اتفاق رائے پر قطر اور صومالیہ کے ریزرویشن کی طرف بھی اشارہ کیا۔ سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نے بین الاقوامی برادری کو دعوت دی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور ترک کارروائیوں کو فور طور پر روکنے کے لئے کوششوں کو دوگنا کردیں، انہوں نے کہا کہ یہ کاروائیاں شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور علاقائی امن و سلامتی کے لئے خطرہ پیدا کررہی ہیں۔ (…)(اتوار  14  صفر 1441 ہجرى/ 13  اکتوبر 2019ء شماره نمبر 14913)