سب سے بڑے سعودی بجٹ میں قیاسی اخراجات
ریاض: عبد الہادہ حبتور اور شجاع البقمی کل خادم حرمین شریفین شاہ سلمان ابن عبد العزیز نے سعودی عرب کی تاریخ میں سنہ 2019ء کے سب سے بڑے بجٹ کا اعلان کیا ہے کیونکہ اس بجٹ کی مقدار 1.106 ٹریلین ریال یعنی 295 ملین ڈالر ہے جبکہ آمدنی کی مقدار 775 […]

ریاض: عبد الہادہ حبتور اور شجاع البقمی
کل خادم حرمین شریفین شاہ سلمان ابن عبد العزیز نے سعودی عرب کی تاریخ میں سنہ 2019ء کے سب سے بڑے بجٹ کا اعلان کیا ہے کیونکہ اس بجٹ کی مقدار 1.106 ٹریلین ریال یعنی 295 ملین ڈالر ہے جبکہ آمدنی کی مقدار 775 ملین ریال یعنی 260 ملین ڈالر ہے۔
ریاض میں کابینہ کی طرف سے منعقدہ بجٹ اعلان کے اجلاس کے دوران شاہ سلمان نے کہا کہ اس نئے سال کا بجٹ ملک کی تاریخ میں سب سے بڑا بجٹ ہے اور اس کا مقصد ملک کی معاشی ترقی کو تقویت دینا اخراجات کی کارکردگی کو بڑھانا اور مالی استحکام واستقرار قائم کرنا ہے اور یہ سب کام ملک کے 2030 ویزن کے رو سے ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ یہ سارے کام موجودہ حکومت کی پالیسیوں کو مسلسل جاری رکھنے کے لئے بھی ہو رہا ہے تاکہ شہریوں کی بنیادی خدمات پر توجہ اور سرکاری خدمات کو ترقی دیا جا سکے۔ اجلاس کے دوران اپنے شہریوں کو مخاطب کرکے کئے جانے والے بیان میں شاہ سلمان نے پرزور انداز میں کہا کہ حکومت معاشی اصلاح، مالی نظام کو کنٹرول کرنے اور شفافیت کو ترقی دینے اور ذاتی اداروں کو طاقت ور بنانے کے راستہ میں آگے بڑھنے کے لئے پرعزم ہے اور ھکومت یہ بھی چاہتی ہے کہ شہریوں کے لئے پیش کی جانے والی تمام خدمات ممتاز اور بہتر سے بہتر ہوں۔
اسی سلسلہ میں سعودی عرب کے ولی عہد کابینہ کے نائب صدر اقتصادی امور اور ترقی کونسل کے صدر شہزادہ محمد ابن سلمان نے پرزور انداز میں کہا کہ قومی اقتصاد میں اقتصادی اور ساخت کی اصلاحات ثابت انداز میں سعودی عرب کے 2030 ویزن کے مقاصد کو مکمل کرنے کے کئے ہو رہے ہیں اور انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ ملک کے عام بجٹ کے بیان سے اس بات کی عکاسی ہو رہی ہے کہ سعودی عرب کی حکومت شفافیت اور مالی وسعت کے اعلی معیار پر کام کرنا چاہتی ہے۔
ولی عہد نے واضح کیا کہ مالی استقرار اقتصادی ترقی کے لئے بنیادی چیز ہے اور گذشتہ دو سال کے دوران ہونے والے اقتصادی اصلاحات اور اقدامات کی وجہ سے 2016ء 2017ء 2018ء کے سالوں میں براہ راست بجٹ کے خسارہ کی شرح 12.8%، 9.3% اور 4.6% کی بناد پر کم ہوئی ہے جبکہ ہر سال اخراجات کی مقدار میں زیادتی ہوئی ہے۔
شہزادہ محمد ابن سلمان نے مزید کہا کہ سعودی عرب کی حکومت تیل کے علاوہ کی آمدنی کی زیادتی کے ذریعہ مالی استقرار واستحکام کو تقویت دینے اور آمدنی کے ذرائع کو دوچند کرنے کے سلسلہ میں کار امد ہے جبکہ تیل کے علاوہ کی امدنی میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ سنہ 2014ء میں 127 ملین ریال کی زیادتی ہوئی تھی اور سنہ 2018ء میں اس کی مقدار 287 ملین ریال ہو گئی ہے اور ملک کے اس عام بجٹ کے مطابق یہ امید ہے کہ 9.% کی زیادتی کے ساتھ سنہ 2019ء میں اس کی مقدار 313 ملین ریال تک پہنچ جائے گی۔
بدھ 11 ربیع الثانی 1440 ہجری – 19 دسمبر 2018ء – شمارہ نمبر [14631]