پہلا صفحہ
مصر کے مداخلت کے بعد غزہ میں خاموشی
کویت کا امریکہ کے اس بیان کی مذمت جس میں فلسطینی متاثرین کو نظر انداز کیا گیا اور واشنگٹن کی طرف سے ان کی حمایت کے منصوبہ کے مطالبہ کے خلاف "ویٹو” پاور استعمال کرنے کا اشارہ رام اللہ: كفاح زبون – نیو یارک: علي بردى اس ایک دن مکمل کشیدگی […]
کویت کا امریکہ کے اس بیان کی مذمت جس میں فلسطینی متاثرین کو نظر انداز کیا گیا اور واشنگٹن کی طرف سے ان کی حمایت کے منصوبہ کے مطالبہ کے خلاف "ویٹو” پاور استعمال کرنے کا اشارہ

رام اللہ: كفاح زبون – نیو یارک: علي بردى
اس ایک دن مکمل کشیدگی رہنے کے بعد گزشتہ روز غزہ پٹی میں پرسکون ماحول رہا ہے جس میں اسرائیل نے راکٹوں اور گولے بارود کے جواب میں غزہ پٹی میں فلسطینی جماعتوں کے کئی جگہوں پر درجنوں حملہ کیا ہے۔ 51 دن کے ایک طویل عرصے تک جاری رہنے والی جنگ کے ختم ہونے کے وقت سنہ 2014 ء میں غزہ میں جنگ بندی کے معاہدہ کے مطابق مصر کی مداخلت کامیاب ہوئی ہے۔
جبکہ کل صبح اس معاہدہ پر عمل درآمد شروع ہوا ہے جس کی بنیاد پر جماعتیں اس اسرائیل پر حملہ نہیں کریں گی جس نے غزہ پر حملہ کرنا بند کر دیا ہے۔(۔۔۔)
اس دوران میں اقوام متحدہ میں کویت کے سفیر منصور العتيبي نے الشرق الاوسط کو بتایا کہ ان کا ملک جمعرات کے دن سلامتی کونسل کے سامنے اس نظر ثانی کردہ مسودہ کے سلسلہ میں ووٹ ڈالنے کا مطالبہ کرے گا جس میں فلسطینی عوام کی بین الاقوامی تحفظ کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا ہے جبکہ ان کی امریکی ہم منصب نيكي ہيلي اس کوشش کو ناکام کرنے کے سلسلہ میں اپنا ویٹو پاور استعمال کرنے کا اشارہ کیا ہے اور یہ سب اس وقت ہوا جب کویت نے امریکہ کی طرف سے نشر کردہ اس بیان کی مذمت کیا ہے جس میں اس نے "حماس” اور "اسلامی جہاد” پر ممکنہ عبارتوں کے ذریعہ سخت مذمت کیا ہے اور غزہ کے متاثرین کو نظر انداز کیا ہے۔
جمعرات – 15 رمضان المبارک 1439 ہجری – 31 مئی 2018ء شمارہ نمبر: (14329)