پہلا صفحہ

ادلب کے سلسلہ میں پوٹن اور اردوگان کے درمیان معاہدہ اور الگ تھلگ علاقہ کے بارے میں انتظار

ماسکو: رائد جبر کل ماسکو میں روسی صدر ولادیمئر پوٹن اور ترکی صدر رجب طیب اردوگان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں ادلب کے اندر مشترکہ کام کے سلسلہ میں ایک معاہدہ ہوا ہے لیکن ترکی کے سرحد کے پاس مشرقی شام کے طول میں ترکی کی طرف سے الگ تھلگ […]

ادلب کے سلسلہ میں پوٹن اور اردوگان کے درمیان معاہدہ اور الگ تھلگ علاقہ کے بارے میں انتظار

ماسکو: رائد جبر

کل ماسکو میں روسی صدر ولادیمئر پوٹن اور ترکی صدر رجب طیب اردوگان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں ادلب کے اندر مشترکہ کام کے سلسلہ میں ایک معاہدہ ہوا ہے لیکن ترکی کے سرحد کے پاس مشرقی شام کے طول میں ترکی کی طرف سے الگ تھلگ علاقہ قائم کرنے کی تجویز کے مسئلہ کو حل کرنے کے سلسلہ میں دونوں صدر تھوڑا انتظار کیا اور پوٹن نے ایک مشترکہ کانفرنس میں اس معاملہ کے سلسلہ میں اپنے موقف کا اعلان کرنے سے پرہیز کیا ہے اور صرف اس بات کی طرف اشارہ کرنے پر اکتفاء کیا ہے یہ روسی معاہدہ ترکی کے امن واستقرا کے مفاد کے لئے ہے جبکہ اردوگان نے 25 سے 30 کیلو میٹر کی دوری تک ایک علاقہ قائم کرنے کی ضرورت پر اپنے ملک کے موقف کا اعلان کیا ہے اور اشارہ کیا ہے کہ اس موضوع کے سلسلہ میں مسلسل گفت وشنید کرنے کے بارے میں معاہدہ ہوگا۔

دستوری کمیٹی کی تشکیل کے سلسلہ میں نقطہائے نظر قریب نظر آئے ہیں اور دونوں صدر نے اقوام متحدہ میں یورپ تحفظات کی پیشگی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ان دونوں نے پرزور انداز میں کہا ہے کہ وہ آستانہ کے دائرہ اور شام میں کشمکش ہر ٹیم کی نمائندگی کو مکمل کرنے کے لئے یورپی فریق کے ساتھ رابطوں کے ذریعہ مسلسل کام کرتے رہیں گے اور اسی طرح ادلب کے سلسلہ میں بھی دونوں کے درمیان اتفاق رائے کا منظر دیکھنے کو ملا ہے اور پوٹن نے دہشت گرد کے مقابلہ میں ترکی کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی ہے اور دونون فریق نے علاقہ کے اندر دیشت گردی وجود کے فروغ کی کوششوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے وزارت دفاع کے ذریعہ مشترکہ کام کرنے کی ضرورت کے سلسلہ میں اتفاق کیا ہے۔(۔۔۔)

جمعرات 18 جمادی الاول 1440 ہجری – 24 جنوری 2019ء – شمارہ نمبر [14667]