اضنہ معاہدہ کے سلسلہ میں انقرہ اور دمشق کے درمیان مذاکرہ
ماسکو: رائد جبر انقرہ: سعید عبد الرزاق انقرہ اور دمشق نے اضنہ معاہدہ کے سلسلہ میں اپنے موقف کا اظہار علی الاعلان کیا ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ بیس سال قبل ہونے والے معاہدہ کو نافذ کرنے کے سلسلہ میں یہ ایک مذاکرہ ہے۔ ترکی […]

ماسکو: رائد جبر انقرہ: سعید عبد الرزاق
انقرہ اور دمشق نے اضنہ معاہدہ کے سلسلہ میں اپنے موقف کا اظہار علی الاعلان کیا ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ بیس سال قبل ہونے والے معاہدہ کو نافذ کرنے کے سلسلہ میں یہ ایک مذاکرہ ہے۔
ترکی صدر رجب طیب اردوگان نے کہا سنہ 1998ء میں ہونے والے معاہدہ کے احکام اب تک جاری ہیں اور یہ بھی کہا کہ جو شام میں ترکی وجود کے سلسلہ میں پوچھتے ہیں انہیں بتا دیں کہ اضنہ کا معاہدہ اب بھی جاری ہے۔
اس کے مقابلہ میں سانا نامی شام کی سرکاری نیوز ایجنسی نے شام کی وزارت خارجہ سے نقل کیا ہے کہ دمشق اب تک اس معاہدہ کا پابند ہے اور اس معاہدہ کا تعلق دونوں ملک کی طرف سے ہر قسم کی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے سے ہے لیکن ترکی حکومت سنہ 2011ء سے اس معاہدہ کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔
روسی وزیر خارجہ سیرگی لاوورو پرسو مراکش میں کہا تھا کہ ان کا ملک اس معاہدہ کو اب بھی جاری سمجھتا ہے اور ماسکو اور ترکی دونوں شام کی سرزمین کی وحدت کے قائل ہیں۔(۔۔۔)
اتوار 21 جمادی الاول 1440 ہجری – 27 جنوری 2019ء – شمارہ نمبر [14670]