ايشيا

مشرقی فرات میں ترک کے گھسنے کے سلسلے میں امریکی ” گرین لائٹ” اور روسی تفہیم

واشنگٹن: ایلی یوسف شام کے شمال مشرق میں ترک کے گھسنے کے لئے "گرین لائٹ” دینے کے سلسلے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے پر امریکہ کے اتحادیوں اور مخالفین نے ایک بار پھر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ اتوار کی رات ٹرمپ اور ترک صدر رجب طیب اردگان کے مابین ٹیلی فون پر ہوۓ […]

مشرقی فرات میں ترک کے گھسنے کے سلسلے میں امریکی ” گرین لائٹ” اور روسی تفہیم

واشنگٹن: ایلی یوسف

شام کے شمال مشرق میں ترک کے گھسنے کے لئے "گرین لائٹ” دینے کے سلسلے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے پر امریکہ کے اتحادیوں اور مخالفین نے ایک بار پھر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ اتوار کی رات ٹرمپ اور ترک صدر رجب طیب اردگان کے مابین ٹیلی فون پر ہوۓ گفتگو کے بعد ، امریکی فوجیوں نے مشرقی فرات میں واقع تل ابیض سے جزوی انخلا شروع کردیا ہے، اس دوران ترک حامی شامی گروہوں نے خطہ میں منتقل ہونے کی تیاری شروع کردی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کل ٹویٹر پر ایک ٹویٹ میں کہا: «اگر ترکی کچھ بھی کرتا ہے اور وہ اسے میری عظیم بے مثال حکمت کے ساتھ یہ سمجھتا ہے کہ یہ حدود سے باہر ہے ، تو میں اس کی معیشت کو مکمل طور پر تباہ و برباد اور ختم کردوں گا ( اور میں ایسا پہلے بھی کرچکا ہوں)۔ (…)(منگل  9  صفر 1441 ہجرى/ 8  اکتوبر 2019ء شماره نمبر 14913)